انسان کا جو اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے اسے سمجھنا کوئی اتنی مشکل بات بھی نہیں جتنی اکثر دوستوں نے بنائی ہوئی ہوتی ہے ہم اسے ایک مثال سے بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ۔ آپ ایک بہت چھوٹے گود کے بچے کا اپنی ماں سے تعلق دیکھیں یا پھر نرسری کے بچوں کا اپنے استاد سے تعلق یہ بہت چھوٹے بچے لاڈ اٹھواتے ہیں یہ بہت بے تکلف ہوتے ہیں کیونکہ ابھی انہیں ماں اور استاد کے رتبے اور اس حوالے سے اپنے فرائض کا شعور ہی نہیں ہوتا ۔ پھر بچہ جوں جوں بڑا ہوتا جاتا ہے فطری طور پر اس کا رویہ ماں سے اور استاد سے بھی بدلتا چلا جاتا ہے ، اب وہ نسبتاََپختہ شعور کے ساتھ اپنے فرائض کو سمجھتے ہوے ادب کے ساتھ بات کرنا سیکھ جاتا ہے ۔ اگر اس حوالے سے آپ نے وہ مخصوص جماعتیں پاس ہی نہیں کیں جو آپ کو آپ کی اپنی ذات اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا شعور دے سکیں تو آپ اس سطح کے لوگوں کی نقل تو کر رہے ہوں گے لیکن اپنی سطح سے اللہ کو پکارنے سے محروم ہی رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی انسان سے محبت کو سمجھنے کے لیے ہم قرآن اور احادیث سے روشنی لیتے ہیں ۔
اللہ اور انسان ، قرآن پاک کی روشنی میں
سورۃ بقرہ آیت 195 کا اختتام ( اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ) سے ہوتا ہے جس کا ترجمہ ذیل ہے ۔
”بلاشبہ اللہ احسان (نیکی اور حسنِ سلوک) کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔“
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
"اور (اے پیغمبر!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (انہیں بتا دیں کہ) میں قریب ہوں، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔” (سورۃ البقرۃ: 186)
اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ
"بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔” (سورۃ البقرۃ: 222)
اللہ کی انسان سے محبت حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے، ان میں ایک عورت تھی جس کا چھاتی سے دودھ بہہ رہا تھا اور وہ اپنے بچے کو تلاش کر رہی تھی۔ جیسے ہی اسے ایک چھوٹا بچہ ملا، اس نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور دودھ پلانے لگی۔
نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: ”کیا تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک سکتی ہے؟“
صحابہ نے عرض کیا: ”خدا کی قسم! نہیں، جب تک اس کے بس میں ہوگا وہ ہرگز اسے آگ میں نہیں پھینکے گی۔“
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس عورت سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“
(صحیح بخاری: 5653، صحیح مسلم: 2754)
قرآن پاک کی روشنی میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ اللہ کیسے انسان سے محبت کرتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ خود انسان سے محبت کا دعویٰ کر رہا ہے ۔ حدیث مبارکہ کی روشنی میں ہمیں اس محبت کی شدت سے شناسائی ہوتی ہے ایک ماں کی اپنے بچے سے محبت تو کچھ بھی نہیں اللہ تو انسان سے اس سے کہیں زیادہ محبت کرتا ہے ۔
حب شناسی، خدا شناسی
تو دوستو یہاں تک ہمیں یہ بات تو سمجھ آ گئی کہ اللہ انسان سے کیسے اور کتنی محبت کرتا ہے اور اللہ کی محبت پانے کے لیے انسان کو کیا کرنا چاہیے تو جب آپ نے اتنی بات سمجھ لی تو سمجھیں کہ آپ نے وہ راستہ دیکھ لیا جس پر چل کر اس محبت سے شناسائی بڑھائی جا سکتی ہے اور یارو جب اس محبت سے شناسائی ہو جائے تو ہی انسان خدا شناسی کے راستے پر پہلا قدم رکھتا ہے اور یہ بات نوٹ کر لیں کہ جوں جوں خدا شناسی بڑھتی ہے اسی طرح انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مزید موادب ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اور یاد رہے کہ میں نے مزید موادب کہا ہے لازم نہیں کہ یہ اتنا ہی مضبوط بھی رہے جتنا خدا شناسی سے پہلے تھا کیونکہ کچھ بچے زرا دیر سے بڑے ہوتے ہیں، وہ پڑھ لیتے ہیں، جان لیتے ہیں لیکن اس جماعت سے آگے جانا نہیں چاہتے۔ تو اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کی محبت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اللہ کی محبت کو پانے کے آسان طریقے
- نیکی یا احسان کرنا اور وہ بھی بے لوث کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند ہے اور ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کے ہزاروں مواقع ملتے ہیں جو اکثر ہم مصروفیت کی وجہ سے یا دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے گنوا دیتے ہیں ۔ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بنا کسی غرض کے بنا کسی نمائش کے بس اللہ کی رضا کے لیے کر دیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ کی محبت کیسے ملتی ہے ۔
- توبہ کرنا، اپنے گزشتہ گناہوں کو یاد کر کے توبہ کرنا، آنے والے وقت میں گناہوں سے آلودہ ہونے کے ڈر سے توبہ کرنا، اپنی کم مائگی کے احساس سے توبہ کرنا، اپنے دل کے برائی کی جانب پھر جانے کے ڈر سے توبہ کرنا۔ ایک انسان اگر سوچے تو توبہ کی تو کئی وجوہات موجود ہوتی ہیں، اور اللہ کو توبہ کرنے والے بہت پسند ہیں ۔ توبہ کو کثرت سے اپنائیں یہ بلا شبہ اللہ کی محبت کو پانے کا آسان طریقہ ہے ۔
- پاک، صاف رہنا، قرآن پاک میں بارہا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے اپنی محبت اور پسندیدگی کا اظہار کیا ہے جو پاک صاف رہتے ہیں ۔
- صبر کرنا، اب تک کی بتائی ہوئی تمام باتوں میں یہ ایک نسبتاََ مشکل کام ہے لیکن اس کا اجر بہت بڑا ہے ۔ کسی بھی مشکل، پریشانی یا آزمایش میں صبر کرنا اللہ کو اتنا پسند ہے کہ بلا شبہ صبر کرنے والے اللہ کی محبت کو پا لیتے ہیں۔
- اپنے اللہ پر توکل کرنا، اللہ پر توکل اور بھروسہ کرنے والے بھی اللہ کو بہت پسند ہیں، بظاہر یہ آسان نظر آتا ہے لیکن صبر کے بعد توکل بہت مشکل ثابت ہوتا ہے ہم کہتے تو ہیں کہ ہم توکل کرنے والے ہیں لیکن وقت پڑنے پر اس امتحان میں بھی سبھی کامیاب نہیں ہوتے ۔ لیکن یہ بھی بہت بڑی حقیقت ہے کہ جو انسان صحیح معنوں میں توکل کو اپنا لے وہ اللہ کی محبت پا لیتا ہے ۔
- انصاف کرنا، انصاف صرف قاضی یا جج ہی نہیں کرتے بلکہ ہمیں روز مرہ میں اکثر مواقع پر انصاف کرنے کا موقع ملتا ہے کہیں ہم انصاف سے کام لیتے ہیں اور کہیں ذاتی پسند و نا پسند یا کسی قسم کا لالچ ہمیں انصاف کے راستے سے بھٹکا دیتا ہے ۔ انصاف بھی کوئی آسان کام نہیں لیکن اللہ ان کے لیے آسان بنا دیتا ہے جو اس کے راستے کو چن چکے ہوتے ہیں ۔ اور بلا شبہ انصاف کرنے والا بھی میرے اللہ کو بہت پسند ہے ۔
اب واپس آغاز پر چلتے ہیں جہاں ہم نے اللہ سے انسان کے تعلق کی مثال ایک چھوٹے بچے اور ماں یا استاد سے دی تھی
اللہ سے رابطہ بڑھانے کے آسان راستے
- نماز: اگر نماز میں یہ احساس پیدا کر لیں کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے تو یہ اللہ سے رابطے کا سب سے آسان راستہ ہے کیونکہ اس وقت ہم براہ راست اللہ کے سامنے حاضر ہوتے ہیں نماز کے دوران اللہ کے بارے میں سوچنے کی شعوری کوشش نہ کریں نہ دماغ میں آنے والے خیالات کو روک کر اللہ کی جانب خود کو متوجہ کرنے کی کوشش کریں کیونکہ خیالات کو روکنے کا یہی عمل آپ کی نماز میں رکاوٹ بننے لگے گا ۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ جیسے شاہراہ پر گاڑیاں گزرتی ہیں ایسے ہی دماغ میں آنے والے ہر خیال کو گزر جانے دیں جب آپ کے دل میں یہ احساس اجاگر ہو جائے گا کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر یہ تمام خیالات یہ رکاوٹیں خود بخود دور ہونے لگیں گی ۔
- دعا: نماز کے بعد دعا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو اللہ سے رابطے میں لے آتا ہے دعا کرتے ہوے جب یہ احساس ہو جائے کہ ہم اپنےاللہ سے مخاطب ہیں اور وہ ہمیں سن رہا ہے تو اسی وقت انسان کا اللہ سے رابطہ ہو جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ یہاں رابطے سے مراد انسان کا اللہ کے قریب ہونے کا احساس ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو کسی رابطے کی ضرورت نہیں وہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے ۔
- حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت، دوستو یہ بہت عجیب پہلو ہے اس محبت کا جو ہم اللہ سے چاہتے ہیں ۔ اللہ اپنے ہر اس بندے سے بے پناہ محبت کرتا ہے جو اس کے حبیب ﷺ سے محبت کرتا ہے تو آقائے دو جہاں، باعث رحمت کائنات ﷺ سے محبت کریں اللہ کی محبت خود بخود مل جائے گی۔
- اوپر بیان شدہ نماز اور دعا کے دوران اللہ تعالیٰ سے رابطے کی بات زرا بڑی جماعتوں کی بات ہے لیکن حضور پاک ﷺ سے محبت وہ مختصر ترین راستہ ہے جس پر دو قدم چلتے ہی اللہ کی محبت خود استقبال کرتی ہے لیکن حضور پاک ﷺ سے محبت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں اللہ سے بے تکلفی چل جاتی ہے وہاں حضور ﷺ کے دربار میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں یہاں ایک نومولود بھی حد ادب کے اندر بات کرتا ہے، یہ وہ محبت ہے جو بذات خود ایک بہت بڑا موضوع ہے اور اس کی وسعت کا تقاضہ ہے کہ اسے الگ سے بیان کیا جائے لہذا ہم واپس اس مقام پر چلتے ہیں جہاں ہم نے آغاز آسان ترین رابطے کے تصور سے کیا تھا۔ اب یہاں مجھے آپ کی توجہ درکار ہے، اللہ کو غرض نہیں کہ آپ کتنے نیک ہیں، نہ اسے آپ کی عبادات کی ضرورت ہے، آپ نے چاہے کوئی ایک نیکی بھی نہ کی ہو، چاہے آج تک آپ اللہ کی یاد سے غافل رہے ہوں، آج رات کو جب سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹیں تو یہ تجربہ کر کے دیکھیں۔ "سوچیں کہ آپ اس اللہ سے مخاطب ہیں جو اس کائنات کا خالق ہے، پھر اللہ سے انتہائی بے تکلفی سے وہ دل کی باتیں کہنا شروع کریں جو آپ کسی بہت اپنے سے کہنا چاہتے ہیں اور نہیں کہہ پاتے، اپنے مسائل اپنی پریشانیاں اپنے دکھ سکھ اپنے خواب، وہ سب کچھ جو کوئی اپنے بے تکلف دوست کے ساتھ بانٹ سکتا ہے آپ اپنے اللہ سے بانٹ لیں جب دل کو ایک سکون ایک اطمینان محسوس ہونے لگے تو بے شک یہ گفتگو بند کر دیں لیکن ایسے ہی جیسے ہم اپنے دوستوں سے پھر ملنے کا کہہ کر جدا ہوتے ہیں” یہ عمل بالکل اس بچے کی مانند ہے جو اپنی ماں سے اور اپنے استاد سے بے تکلف ہوتا ہے ۔
- کسی مجبور، کسی بے بس بے کس و لاچار کی مدد کر کے دیکھیں، ایسے ہر عمل کے بعد اپنے رب سے وہ دعا مانگیں جس کی طلب شدید ترین ہو ۔ ایک بے لوث نیکی اور اس کے بعد دعا یہ ایک ایسی مشق ہے جو براہ راست اللہ سے ملا دیتی ہے ۔
جوں جوں خدا شناسی آتی جاتی ہیں اسی طرح انسان میں ایک جھجک بھی پیدا ہوتی جاتی ہے اور وہ بے تکلفی بتدریج ختم ہوتی جاتی ہے جو شروع میں قائم ہو گئی تھی اب اس مقام پر انسان موادب ہونے لگتا ہے یہاں ایک معاملے میں بہت توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بے تکلفی ختم ہونے کا یہ مطلب تو ہر گز نہیں کہ آپ کا اللہ سے فاصلہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ اب اگر آپ اپنی موجودہ سطح پر دل سے اللہ کو پکاریں تو اب وہ زیادہ قریب محسوس ہو گا ۔ کچھ لوگ یہاں بد دل ہونے لگتے ہیں کیونکہ وہ شیطان کے بچھائے دام ہم رنگ زمیں سے ناواقف ہوتے ہیں ۔ اس مقام پر شیطان دل میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اب اپنے اللہ سے بھی وہ پرانی بے تکلفی نہیں رکھیں گے تو کس سے رکھیں گے اور اللہ کیا کہیں گے کہ اس نے یاری توڑ دی ؟ ایسے خیالات کے ساتھ انسان سے بے تکلفی کا رویہ اختیار کرواتا ہے اور پھر وہی ہوتا ہے جو بڑی جماعت کے بچوں کا چھوٹی عمر کے بچوں کی طرح حرکات کرنے پر ہوتا ہے ۔ تو ایسے میں صدق دل سے توبہ کریں استغفار پڑھیں لاحول پڑھیں اور پھر سے اپنی سطح سے پورے آداب کے ساتھ اللہ کو پکاریں اب رابطہ پہلے سے بھی مضبوط ہو گا ۔
اس دعا کے ساتھ کہ اللہ ہمارے سینوں کو حبیبِ پاک ﷺ کی محبت سے بھر دے، یہ فقیر آپ سے اجازت چاہتا ہے ۔ مجھے آپ کی آراء اور سوالات کا انتظار رہے گا
خیر اندیش
معظم شاہ
