ہمارے بارے میں

حیات مدینہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں ، یہ کوئی پروجیکٹ نہیں اسے آپ اپنا ایسا دوست سمجھیں جو آپ کا خیر خواہ ہے ، جو ہمیشہ آپ کی بہتری چاہتا ہے جس سے آپ دل کی بات کر سکتے ہیں ۔ 

حیات مدینہ کیا ہے ؟ 

جیسے کہ نام سے ظاہر ہے ، مدینہ میں رہنے والوں جیسی زندگی ، یہ نام علامت ہے اللہ سے خصوصی اور ذاتی تعلق کی ، مدینہ پاک جیسے شہر میں رہنا ایک بذات خود بہت بڑی نعمت ہے اب مدینہ میں رہ کر کیسی زندگی گزاری جا سکتی ہے ؟ یہ یہاں "حیات ِ مدینہ” میں بتایا جاتا ہے ۔ 

پس منظر 

آج کے دور میں ایک بڑی تعداد میں انسان اپنی فطرت سے ہٹ چکا ہے ، انسان اپنے اللہ سے اپنے خالق سے دور کہیں شیطانی راستوں پر نکل چکا ہے ۔ یہ تو ایک مسلمہ اصول ہے کہ جیسے جیسے آپ فطرت سے دور ہوتے ہیں آپ کا تعلق فطرت سے کمزور ہوتا ہے تو غیر فطری عناصر آپ کی زندگی پر غلبہ پانا شروع کر دیتے ہیں ۔ ایسے میں اگر آپ واپس فطرت کی جانب،  اپنے خالق کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور اپنے اللہ سے رجوع کرتے ہیں تو جو سب سے بڑی دولت جو سب سے پہلا تحفہ آپ کو ملتا ہے وہ دل کا سکون ہے ۔ جب میں نے سوچا کہ اللہ سے براہ راست رابطہ تو بہت آسان ہے تو انسان اس طرف کیوں نہیں جا رہا ؟ تو خیال آیا کہ آج کے انسان کو اس جانب متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ تھوڑی سی مزید تحقیق کی تو اس کا راستہ سمجھ آیا اور یہی خیال یہی خواہش کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں اور خصوصاََ نوجوانوں کو اللہ سے ایک سادہ آسان اور مضبوط تعلق بنانا چاہیے ، حیاتِ مدینہ کی بنیاد بنی ۔ 

حیاتِ مدینہ کے بنیادی مقاصد 

  1. انسان کا اپنے خالق سے تعلق مضبوط بنانا 
  2. سکونِ قلب کا حصول 
  3. خود شناسی کا تحرک 
  4. اللہ تعالی تک جانے والے آسان ترین راستوں کا انتخاب 
  5. قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور دور جدید کی سائنسی تحقیقات کی روشنی میں خود کو ایک مثبت تبدیلی کے لیے تیار کرنا 
  6. رضاکارانه طور پر بغیر کسی فائدے کی خواش کے ، ارد گرد کے انسانوں کی مشکلات کم کرنا اور آسانیاں پھیلانا 

حیات مدینہ کا مرکزی خیال 

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں
أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا… "کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی تاکہ ان کے ایسے دل ہوتے جن سے وہ سوچتے/سمجھتے… حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔” سورۃ الحج (آیت 46) 

ایک طویل عرصے تک سائنس اسلام کے اس تصور کو جھٹلاتی رہی کہ دل سے بھی سوچا جا سکتا ہے ۔ سائنسی نظریہ تھا کہ دل تو صرف خون پمپ کرنے کا آلہ ہے اور انسان کی سوچنے سمجھنے کی تمام  سرگرمیاں اس کے دماغ سے تعلق رکھتی ہیں جو انسانی کھوپڑی میں ہوتا ہے ۔ 

لیکن جدید سائنسی اور طبّی تحیقیقات (مثلاً Neurocardiology) میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ دل کے پاس اپنا ایک اعصابی نظام (Neurons) ہوتا ہے جو دماغ کو سگنل بھیجتا ہے اور احساسات و فیصلے کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے اسلام کا دل سے سوچنے اور فیصلہ کرنے کا نظریہ تو درست ثابت ہو گیا ۔ 

ایک حدیث مبارکہ ہے 

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:

«إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَكَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ»

ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

«اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ»

ترجمہ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "آدم علیہ السلام کی تمام اولاد کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں پھیرتا (بدلتا) ہے۔”

پھر آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی: "اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف پھیر دے۔”

(صحیح مسلم: 2654)

تو ثابت ہوا کہ انسان کے دل کا اپنی جانب پھیر دینا اللہ کا خاص کرم ہے ، دل کی سوچ کا اللہ کی جانب متوجہ ہونا اور اس کی بنیاد پر اللہ سے خصوصی تعلق کا قیام حیات مدینہ کا مرکزی خیال ہے اور اس کا تمام مواد اسی مرکزی خیال کے گرد گھومتا ہے ۔ 

حیاتِ مدینہ سے آپ کیا حاصل کر سکتے ہیں ؟

  1. بغیر کسی بڑی کوشش کے ، ایک مکمل تبدیل شدہ طرز زندگی جو آپ کو سکون اور خوشی دے سکے ۔ 
  2. ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کا جاننا جن پر عمل کر کے آپ اس راستے پر پہلا قدم رکھ سکتے ہیں جو اللہ کے دوستوں کا راستہ ہے ۔ 
  3. انتہائی آسان اور معمولی کوششوں سے چھوٹی چھوٹی نیکیاں جو آپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہو کر روزِ قیامت کو آسان بنا سکتی ہیں ۔ 
  4. حیات مدینہ میں آپ اپنے والدین ، بہن بھائیوں ، بیوی بچوں کے لیے بہت آسانی سے ایک خوشگوار ترین ساتھ بن سکتے ہیں ۔ 
  5. اللہ تعالیٰ سے براہ راست گفتگو کے انتہائی سادہ طریقے جن پر عمل کر کے آپ اللہ سے دل کی ہر بات کہہ سکتے ہیں ۔ 
  6. خود شناسی جیسی دولت کا حصول 

آئیے حیات مدینہ کے ممبر بن جائیے ۔ یہ بالکل فری ہے اور یہاں کوئی جبر نہیں کوئی زبردستی نہیں آپ کو جو بتایا جائے گا اگر آپ کا دل چاہے تو وہ کام کریں دل نہ چاہے تو نہ کریں لیکن ہم سے جڑے رہیں یہ تعلق نہ ٹوٹنے دیں کیونکہ آپ ہمارے بھائی ہیں ہماری بہنیں ہیں اور ہمیں بہت عزیز ہیں ۔ یہاں کوئی پابندی نہیں ہے جب چاہیں آئیں اس دل اور گھر کے دروازے آپ کو کھلے ملیں گے ۔
آپ کا اپنا 

معظم شاہ 

اوپر تک سکرول کریں۔